امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ عزائم سے بھرے ایک بیان نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں وہ اپنی فوج کو کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول انھیں یہ حکم دینے کا مکمل اختیار ہے کیوں کہ وہ اپنے ملک کے کمانڈر انچیف ہیں اور مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ کسی ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ وہ صرف اپنے طے کردہ اخلاقیات کے اُصول اور اپنی سوچ سے لیتے ہیں۔ کسی اور کی پروا نہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد بحث کے لیے منظور کرلی جس میں صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کے لیے کانگریس کی اجازت لینا ہوگی۔
بحث کرانے کی اس قرارداد کے حق میں 52 ارکان نے حق میں ووٹ دیئے تھے جب کہ 47 نے مخالفت کی تھی۔
جس پر صدر ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے اپنی جماعت ریپبلکن کے سینیٹرز پر تنقید کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ آئندہ یہ لوگ سینیٹر نہیں بن سکیں گے۔
البتہ صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر دوسرے مرحلے میں کرنے والے فوجی حملے کو منسوخ کر دیا۔